Loading...
Loading...
FEDERAL PUBLIC SERVICE COMMISSION COMPETITIVE EXAMINATION-2025
سوالنمبر 2-
(الف) درج ذیل میں سے کسی ایک جزو کی تشریح کیجئے اور شاعر کا نام بھی لکھیئے۔
فروغ شعلۂ خس یک نفس
نفس موج محیط بے خودی ہے
(3)
ہوس کو پاسِ ناموس وفا کیا
تغافل ہائے ساقی کا گلہ کیا
(4)
دماغ عطر پیراہن نہیں ہے۔
یہ قاتل وعده صبر آزما کیوں
(5)
غم آوارگی ہائے صبا ، کیا
یہ کافر فتنہ طاقت رہا کیا؟
سوالنمبر 3-
(الف) احمد ندیم قاسمی نے پنجاب کے دیہات کو اُردو ادب میں اعتبار بخشا۔ " کپا س کا پھول " کے تناظر میں بحث کیجیے .
یا
”ہم عہد یوسفی میں جی رہے ہیں " اس بیان کی روشنی میں مشتاق احمد یوسفی کے فن طنز و مزاح سے آگاہ کیجیے
(ب) درج ذیل اقتباسات میں سے کسی ایک کی تشریح کیجیے ۔ مصنف اور کتاب یا مضمون کا حوالہ بھی دیجیے۔
(1) ایک نہیں دو گالیاں______ بار بار دو گالیاں جو سیٹھ نے بالکل پان کی پیک کی مانند اپنے منہ سے اگل دی تھیں ۔ اس کے کانوں کے پاس زہریلی بھڑوں کی طرح بهنبهنانا شروع کر دیتی تھیں ۔ اور وہ سخت بے حیا تھا، یا گالیوں کو گالی کا جواب دے رہا تھا، یا کسی شخص کو جو گالی کا جواب گالی سے دے رہا تھا، وہ کوسا جا رہا تھا، اس کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ اس گڑبڑ کا نام کیا رکھے جو اس کے دل میں اور دماغ میں ان گالیوں نے مچا رکھی تھی۔ وہ کیسے اس تپ کو دور کر سکتا تھا۔۔۔ اس کا دماغ تو اس وقت ایک ایسا اکھاڑا بنا ہو اتھا جس میں بہت سے پہلوان کشتی لڑ رہے ہوں جو خیال بھی وہاں پیدا ہوتا کسی دوسرے خیال سے جو پہلے ہی سے وہاں موجود ہوتا بھڑ جاتا او روہ کچھ سو چ نہ سکتا۔
(2) والئی ریاست اپنے علاقہ کا حاکم با اختیار ہے۔ سیاه وسفید کا مالک ہے لیکن اس کے ساتھ ایک ایسی پچ لگی ہوتی ہے جس کے سامنے سارے اختیارات دھرے ره جاتے ہیں۔ یہ ایک عجیب و غریب شخص ہوتا ہے۔ نہ صاحب اختیار، نہ صاحب جاہ و منصب، نہ غیر معمولی قابلیت اور ذہانت رکھتا ہے لیکن سب کچھ سمجھا جاتا ہے اور سب کچھ کر گزرتا ہے۔ یہ رزیڈنٹ بہادر ہیں، راج پاٹ تو حضور کا ہے لیکن کنکوے کی ڈور صاحب عالی شان بہادر “ کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ یہاں بڑے بڑے مدعیوں کے دعوے باطل ہو جاتے ہیں اور بڑے بڑے مدبروں کی تدبیریں بے سود ثابت ہوتی ہیں۔ بڑے صاحب کی نظر پھری ایک دنیا پھر جاتی ہے۔
سوالنمبر 4. درج ذیل نثر پاروں میں سے کسی ایک کی تلخیص کیجئے.
(1) انسانی زندگی ایک ایسے عمل مسلسل کا نام ہے جس کا طبعی تحرک کبھی ختم نہیں ہوتا اور جس کی صبا رفتاری کے آگے کسی قسم کی رکاوٹ کھڑی کرنا ممکن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ برگساں نے زندگی کو ایک ایسے صبا رفتار گھوڑے سے تشبیہ دی ہے جو افق کی تلاش میں سرگرداں کسی مقام پر ٹھہرے بغیر بڑھتا چلا جاتا ہے۔ یوں بھی حرکت ایک مطلق حقیقت ہے اور سکون باعتبار اضافت ہے۔ جو زائد حرکت کی نسبت سے ساکن اور کم حرکت کی نسبت سے متحرک ہوتا ہے۔ اس تسلسل حیات کے برعکس جب جمود کا ذکر ہوتا ہے تو اس سے مراد زندگی کی رفتار کو روک دینا یا اسے جامد کرنا نہیں ہوتا بلکہ مقصد یہ ظاہر کرنا ہوتا ہے کہ زندگی سے تخلیق کی تازگی مفقود ہو گئی ہے اور اسلوب ِ حیات ایک گِھسے پٹے سانچے کو قبول کرنے لگا ہے۔ ایسی صورت میں زندگی کا تسلسل حیوانی سطح پرتو قائم رہتا ہے لیکن اس میں جدت اور تنوع کا کوئ پہلو نظر نہیں آتا ۔
(2) موسم، ماحول ، فطرت، لینڈ سکیپ، جغرافیہ یا جو بھی نام دے لیں ان سے شاعر کی جذباتی ہم آہنگی کوئی ایسی عجیب پُراسرار یا بعیداز فہم نہیں ہونی چاہیے۔ شدت ِ احساس ، نفسی تناؤ یا اعصابیت کی بنا پر شاعر عام لوگوں کے مقابلہ میں موسمی تغیرات کا حساس پیمانہ ثابت ہو سکتا ہے۔ نازک طبع شاعر کے اعصاب تو موسم کےتال پر دھڑکتے ہیں۔ گرمی سے کملا جاتے ہیں۔ سردی سے حظ اُٹھاتے ہیں۔ برسات سے سرشار ہوتے ہیں،حبس سے پُرتناؤ رہتے ہیں اور برسات میں دھمال ڈالتے ہیں۔اس لیے اگر شعراء نے بدلتی رتوں سے تخلیقی اثرات قبول کرتے ہوئے اشعار کو موسم کا آئینہ بنا دیا تو یہ تعجب خیزنہ ہونا چاہیے البتہ برعکس ہونا باعث تعجب ہو سکتا ہے ۔
سوالنمبر 5 کسی ایک موضوع پر سیر حاصل مضمون لکھیئے۔
(الف) پاکستانی ادب پر علاقائی اثرات
(ب) حلقئہ ارباب ذوق
(ج) کلاسیکی عہد میں اُردو شاعری
Browse our complete collection of CSS, PPSC, and PMS past papers.